About Me

My photo

I just want to talk and discuss about Islam and other non Islamic organisations like Ahmadis/Qadianis who portrayed them in a guise of Muslims to deceive and betray all human society as its a well known fact their forefather who claimed to be their prophet was planted by British in subcontinent to uproot soul of JIHAD From Muslims . Jews are Jews , Christians are Christian ,Hindus are Hindus so should be Qadianis (Non Muslims) My aim is to discuss Islam with any Muslim or Non Muslim who want to talk and want to know the reality of Islam. that's it ! Let Me welcome all of you interested with good faith . 
Loading...

Friday, 18 April 2014

چہروں کا دیباچہ اور میرا ابتک کا آخری سفر

Courtesy: Azam Nasir (Student of PUCIT)
مڈ ٹرم ایگزام ختم ہوتے ہی میں نے گھر کا رخ کیا۔بسوں میں رش ہونے کی وجہ سے کنڈکٹروں کے مزاج بھی بگڑ چلے تھے۔ میں نے بادل نخواستہ لوکل ٹرانسپورٹ کا راستہ ناپا۔ پہنچ کر دیکھا تو ایک بس روانگی کیلیے تیار تھی۔ میں نے جھٹ سے کرایہ دیکر بیٹھنا مناسب سمجھا۔ اب وہاں بیٹھے ہتھیلی پر ٹھوڑی سجا کر مفکر اعظم کا احساس حاصل کرلینے کے بعد کسی ایسے سنگین پہلو کی تلاش شروع کی جسکا میں دوران سفر حل تلاش کر سکتا۔ اسی دوران اپنی حالت مجموعی کو برقرار رکھتے ہوئے بس میں داخل ہونے والے ہر شخص پر قیاس کرتا کہ یہ بندا اس بس میں سفر کرےگا یا نہیں۔ (چونکہ لوکل بس تھی اسی تعصب سے اکژ لوگ بیٹھنا گوارہ نہیں کررہے تھےوگرنہ بس کی حالت دگرگوں سے قدرے مناسب تھی ، اور موسم کے قطع نظر ائر کنڈیشنڈ ہونے کا دلاسا بھے موجود تھا( یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ میرے اکژقیاس درست ثابت ہو رہے تھے۔ یوں مجھے سفر کا سہارا اور میرے مضمون کا دلارا راجمکار "موضوع" مل چکا تھا اور میں نے وہاں بیٹھے بٹھائے چہرے پڑھنے کا فن سیکھ لیا تھا۔ اب بس ایک فنکار کی طرح مجھے کمال فن کے اظہار کیلیے کچھ دو ایک مثالیں بنانی تھیں تا کہ انہیں بنا سنوار کر اور پانی میں مدھانی کی مماثلت پیدا کرتے ہوئے میں اس پر پوری کتاب لکھ سکتا! ، لہٰذا چہروں پر لکھے جانے والی میری پہلی کتاب کا دیباچہ میں نے ذہن میں ہی تیار کرنا شروع کیا۔ چونکہ بیالوجی کے کسی تجربے کی طرح یہ کوئ جان لیوا تجربہ نہیں تھا ، اس لیئے میں نے خود اپنے چہرے سے ابتداء کی۔ یقین مانیے اس روز پہلی دفعہ مجھے احساس ہوا کہ میرا حلیہ کتنی مضحکہ خیز چیز رہی ہوگی۔ سر کے بالوں کی سفیدی سے شروع ہو کر باریش کے سنہرے بالوں تک تو میں اپنے بارے میں یہ قیاس کر چکا تھا کہ میں نوجوان تو ہرگز نہیں ہو سکتا اور ان 21 سالوں کی یاد داشت جو مجھے سونپی گئی ہے، سے پہلے بھی میرا وجود کہیں ٹپکتا رہا ہوگا۔ مگر تھوڑی تسلی تب ملی جب مجھے ناک پر نکلنے والے مہاسوں کا خیال آیا، جنہیں حکما ء بعض اوقات جوانی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اسکے بعد ان موٹر سائیکل سے گرنے کے باعث لگنے والی بعض چوٹیں یاد آئیں جن میں میں نے " منہ پہ کھائی " تھی۔ بہر کیف یہی تجربہ مختلف لوگوں پر دہرا لینے کے بعد میں دیباچہ لکھنے کیلئے جو فہرست منتخب کی وہ کچھ یوں تھی۔ "چہرہ انسانی درج ذیل چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ 1-آنکھ 2-ناک 3-ہونٹ 4-کان 5-بھنویں 6- باریش (اگر میسر ہو( 7-مونچھیں (اوپر والی شرط کے ساتھ( 8- سر کے بال " آٹھواں نقطہ میں اس صورت شامل کرتا اگر میری کتاب کو ہیڈ اینڈ شولڈرز کی طرف سے پبلسٹی ملتی۔ اب چونکہ میں سائیکالوجی سے بھی نا واقف تھا اسلئیے فہرست میں آنے والے تمام اعظاء کے صرف طبی مصارف اور اثرات ہی بیان کر سکتا تھا اسلئیے میرا کتاب لکھنا بھی بد تہذیبی تھی۔ میری اسی مایوسی کے دوران میں بس نے چلنا شروع کیا اور مجھے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ دو گھنٹے بعد میں نے آنکھ کھولی تو دیکھا کہ بس پتوکی ٹول پلازہ سے گزر رہی تھی حالانکہ وہاں تک کا سفر پون گھنٹہ تک کا بھی نہ تھا۔ دل ہی دل میں میں نے ڈرائیور کو بہت سی گالیاں دیں اور "بد تہذیبی" والی سوچ کا اثر یوں ذہن سے نکلا کہ جب ڈرائیور نے ایکطرف منہ کیا تو مجھے سائیڈ ویو سے انکے چہرے کی بناوٹ سے " لعنت " لکھا ہوا محسوس ہوا جس میں بحرحال "ل" کا سٹروک کچھ عجیب سا تھا مگر ناک بھرپور "ع" کی شکل بنا رہا تھا ، "ن "کیلئے ناک سے ہونٹوں تک اور "ت " کیلیئے ہونٹ سے نیچے ٹھوڑی تک لفظ مکمل ہو رہا تھا ۔ " ل" کیلئے میں نے خیال کیا کہ شاید ماضی بعید کے کسی خطاط کو لعنت لکھنے کیلئے "ل" کو "عنت" کی ہی سیدھ میں لکھنے میں دلچسپی رہی ہو۔ "ن" اور "ت " کے نکات کی غیر موجودگی ابھی بھی پریشان کن تھی۔ اور یہ کمی تب پوری ہوئی جب تین گھنٹے میں اوکاڑہ پہنچ کر ڈرائیور نے اعلان کیا کہ ، "ہم آگے نہیں جائیں گے ، جنہیں آگے جانا ہے وہ باقی کا کرایہ واپس لے سکتے ہیں!" اور لوگوں نے اس شخص کو بس سے نکال کر تھپڑوں سے بجانا شروع کیا۔ میں نے صرف تین تھپڑوں تک ہی دیکھنا گوارا کیا کیونکہ مجھے "ن" اور "ت" کیلئے صرف تین نکتوں کی ضرورت تھی اور مجھے گھر بھی پہنچنا تھا۔ یوں میں نے پورے ہاتھ سے ڈرائیور کو بڑی جدوجہد سے مکمل ہونے والی "لعنت" کا اشارہ کیا اوربقیہ کرایہ پکڑتے ہوئے اگلی بس کی طرف بڑھ گیا!

Sunday, 12 January 2014

Why I oppose Musharraf??

Writer: Muhammad Umair Cheema
Courtesy: ARY Blog http://blogs.arynews.tv/why-i-oppose-musharraf/
If I did something, I must accept that, no matter what will be my fate then because I am not coward. But I am really disappointed on what Mr.Musharraf did.First he violated the constitution two times in October 1999 and in November 2007 but now he is running away from this, "Come on commander it is not your style." His complete era is full of his mistakes; I want to point out those mistakes one by one:
1) He violated constitution two times in his era.
2) His behavior was not good to his opponents.
3) His biggest mistake dismissal of Justice Iftikhar.
4) His blind confidence on his advisers which made him a usual ruler having nothing for people.
5) He did not follow his 7 points agenda which he presented after quo.
6) He distanced himself from people by picking corrupt people confronting his agenda.
7) Lal masjid issue whatever it was but not solved with intelligence and dealt wrongly.
8) His behavior towards our civilization and culture made us worse in many ways.
9) Referendum idea was a stupid and idiot idea which he followed.
10) He always tried to solve problems with power not with strategy and political way.
These are the points which made him weaker and unacceptable to the nation and I'm surprised he is still believing people like Dr.Amjad who did all this with him. He must think about his friends who are no where now. He must not insist on blunders. He would have realized all these deceptions on his welcome day in Pakistan but he has not.
One last thing he is head of a political party so he should try political ways but he is still trying to get army involved in all this stuff then how can a Pakistan take him as a leader??
About Muhammad Umair Cheema
Umair Cheema is a student of University Of engineering and technology Lahore. He always write on issues what he thinks are right or wrong according to the situations.